Sunan ibn Majah Hadith 1262 (سنن ابن ماجہ)

[1262] إسنادہ ضعیف

سنن أبي داود (1193) نسائي (1486) مختصرًا

انوار الصحیفہ ص 421

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ وَجَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَخَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَہُ حَتَّی أَتَی الْمُسْجِدَ فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّی انْجَلَتْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ أُنَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ الْعُظَمَاءِ وَلَيْسَ كَذَلِكَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِہِ فَإِذَا تَجَلَّی اللہُ لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِہِ خَشَعَ لَہُ

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن ہوگیا،آپ گھبرائے ہوئے کپڑا کھینچتے (گھر سے) باہر تشریف لائے حتی کہ مسجد میں آگئے۔آپ نماز پرھتے رہے حتی کہ سورج روشن ہوگیا اس کے بعد فرمایا: ’’بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سورج اور چاند کو گرہن بڑے لوگوں میں سے کسی کی موت کی وجہ سے لگتا ہے ایسا ہر گز نہیں ہے۔سورج اور چاند کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔(لیکن) اللہ تعالیٰ جب مخلوق میں سے کسی چیز پر تجلی فرماتا ہے تو وہ عاجزی کا اظہار کرتی ہے۔‘‘