Sunan ibn Majah Hadith 1263 (سنن ابن ماجہ)
[1263]بخاری ومسلم
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِلَی الْمَسْجِدِ فَقَامَ فَكَبَّرَ فَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَہُ فَقَرَأَ رَسُولُ اللہِ ﷺ قِرَاءَةً طَوِيلَةً ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً ہِيَ أَدْنَی مِنْ الْقِرَاءَةِ الْأُولَی ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ہُوَ أَدْنَی مِنْ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَی مِثْلَ ذَلِكَ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتْ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَثْنَی عَلَی اللہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللہِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِہِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوہُمَا فَافْزَعُوا إِلَی الصَّلَاةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں (ایک بار) سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ گھر سے نکل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔آپ نے کھڑے ہو کر تکبیر(تحریمہ) کہی۔صحابہ کرام آپ کے پیچھے صفیں باندھے ہوئے تھے۔رسول اللہ ﷺ نے طویل قراءت فرمائی،پھر اللہ اکبرکہہ کر طویل رکوع کیا،پھر سر اٹھا کر (سمع اللہ لمن حمد ربنا ولک الحمد) فرمایا: پھر قیام فرمایا اور طویل قراءت کی جو پہلی قراءت سے کم طویل تھی،پھر اللہ اکبر کہہ کر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے مختصر تھا۔پھر فرمایا: (سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد) (اس کے بعد سجدے کر کے یہ رکعت مکمل کی) پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔اس طرح پورے چار رکوع اور چار سجدے کیے۔نبی ﷺ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے سورج روشن ہو چکا تھا،پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیا،اس میں اللہ کی شایانِ شان حمد و ثنا بیان فرمائی۔اس کے بعد فرمایا: ’’سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیوں ہیں انہیں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔جب تم انہیں(گرہن لگا ہوا) دیکھو تو نماز کی طرف بھاگو۔‘‘