Sunan ibn Majah Hadith 1334 (سنن ابن ماجہ)

[1334]صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَعَبْدُ الْوَہَّابِ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ الْمَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ إِلَيْہِ وَقِيلَ قَدِمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لِأَنْظُرَ إِلَيْہِ فَلَمَّا اسْتَبَنْتُ وَجْہَ رَسُولِ اللہِ ﷺ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْہَہُ لَيْسَ بِوَجْہِ كَذَّابٍ فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ تَكَلَّمَ بِہِ أَنْ قَالَ يَا أَيُّہَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ مدینہ شریف تشریف لائے تو لوگ فوراً آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے(جمگھٹا ہوگیا) لوگوں نے (خوشی سے ایک دوسرے کو) کہا: اللہ کے رسول ﷺ تشریف لے آئے ہیں۔لوگوں کے ساتھ میں بھی آپ کی زیارت کے لئے گیا جب میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہٴ اقدس کو توجہ سے دیکھا تو مجھے یقین ہوگیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں۔نبی ﷺ نے سب سے پہلے جو کلام فرمایا،وہ یہ تھا: ’’لوگو! سلام کو عام کرو،کھانا کھلایا کرو،رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو تم نماز پڑھاکرو،سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘