Sunan ibn Majah Hadith 1375 (سنن ابن ماجہ)

[1375] إسنادہ ضعیف

عاصم عن عمر: مرسل (تہذیب الکمال 323/9)

وھو مجہول (التحریر: 5193)

وأبو إسحاق عنعن

انوار الصحیفہ ص 425، 426

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ طَارِقٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ خَرَجَ نَفَرٌ مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ إِلَی عُمَرَ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَيْہِ قَالَ لَہُمْ مِمَّنْ أَنْتُمْ قَالُوا مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ قَالَ فَبِإِذْنٍ جِئْتُمْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَسَأَلُوہُ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي بَيْتِہِ فَقَالَ عُمَرُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقَالَ أَمَّا صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِہِ فَنُورٌ فَنَوِّرُوا بُيُوتَكُمْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَہُ

عاصم بن عمرو رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عراق سے چند افراد عمر رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے (وطن سے) آئے،جب وہ عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں (عمر رضی اللہ عنہ) نےکہا: آپ لوگ کس قوم سے تعلق رکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: عراق کے رہنے والے ہیں۔فرمایا: آپ لوگ اجازت لے کر آئے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔انہوں نے (عمر رضی اللہ عنہ سے) گھر میں نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا،عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’آدمی کا گھر میں نماز پڑھان نور (کا باعث) ہے،اس لیے اپنے گھروں کو منور کیا کرو۔امام ابن ماجہ نے اپنے استاد محمد بن ابی حسین کی سند سے یہ روایت بیان کی تو عاصم بن عمرو اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے درمیان عمیر کا واسطہ بیان کیا۔