Sunan ibn Majah Hadith 1388 (سنن ابن ماجہ)

[1388] إسنادہ موضوع

أبو بکر ابن أبي سبرۃ: کان ’’یضع الحدیث‘‘ کما قال أحمد و ابن معین وغیرہما وقال ابن حجر: ’’رموہ بالوضع وقال مصعب الزبیري: کان عالمًا‘‘(تقریب: 7974): قلت:لم ینفعہ علمہ لأنہ کان یکذب مع کونہ عالمًا (!) وشیخہ لا یعرف،ولعلہ إبراہیم بن محمد بن أبي یحیی: متروک (انظر التقریب: 241 وضعیف سنن أبي داود: 2131)

انوار الصحیفہ ص 426

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي سَبْرَةَ عَنْ إِبْرَاہِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُومُوا لَيْلَہَا وَصُومُوا نَہَارَہَا فَإِنَّ اللہَ يَنْزِلُ فِيہَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَی سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَہُ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَہُ أَلَا مُبْتَلًی فَأُعَافِيَہُ أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا حَتَّی يَطْلُعَ الْفَجْرُ

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو۔اس رات اللہ تعالیٰ سورج کے غروب ہوتے ہیں پہلے آسمان پر نزول فرما لیتا ہے،اور صبح صاد طلوع ہونے تک کہتا رہتا ہے: کیا کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا ہے،کہ میں اسے معاف کروں؟ کیا کوئی رزق طلب کرنے والا ہے کہ اسے رزق دوں؟ کیا کوئی کسی بیماری یا مصیبت میں) مبتلا ہے کہ میں اسے عافیت فرمادوں؟‘‘