Sunan ibn Majah Hadith 1438 (سنن ابن ماجہ)
[1438] إسنادہ ضعیف
ترمذي (2087)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ،عَنْ مُوسَی بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِيمَ التَّيْمِيِّ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَی الْمَرِيضِ،فَنَفِّسُوا لَہُ فِي الْأَجَلِ،فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا،وَہُوَ يُطَيِّبُ بِنَفْسِ الْمَرِيضِ))
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم مریض کے پاس جاؤ تو اسے زندی کی امید دلاؤ اس سے(تقدیر کا فیصلہ تو) کچھ نہیں ٹلتا لیکن بیمار کا دل خوش ہوجاتا ہے۔‘‘