Sunan ibn Majah Hadith 1449 (سنن ابن ماجہ)
[1449] إسنادہ ضعیف
محمد بن إسحاق مدلس
ولم أجد تصریح سماعہ
والحدیث الآتي (الأصل: 4271) یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ ہَارُونَ،ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ،جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ،عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ،عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ،عَنْ أَبِيہِ،قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ كَعْبًا الْوَفَاةُ أَتَتْہُ أُمُّ بِشْرٍ بِنْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ،فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنْ لَقِيتَ فُلَانًا،فَاقْرَأْ عَلَيْہِ مِنِّي السَّلَامَ،قَالَ: غَفَرَ اللہُ لَكِ يَا أُمَّ بِشْرٍ نَحْنُ أَشْغَلُ مِنْ ذَلِكَ،قَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ،تَعْلُقُ بِشَجَرِ الْجَنَّةِ)) قَالَ: بَلَی،قَالَتْ: فَہُوَ ذَاكَ
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک اپنے والد کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ جب کعب رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا(اور موت کے آثار ظاہر ہونے لگے) تو براء بن معرور رضی اللہ عنہ کی بیٹی ام بشر رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں اور کہا: اے ابو عبدالرحمٰن (کعب بن مالک)! اگر (عالم ارواح مین) فلاں سے(حضرت بشر رضی اللہ عنہ سے) آپ کی ملاقات ہو تو اسے میرا سلام کہہ دیجئے گا،انہوں نے کہا: ام بشر! اللہ آپ کی مغفرت کرے،ہمیں اتنی فرصت کہاں ہوگی؟ ام بشر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو عبدالرحمٰن! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ ارشاد مبارک نہیں سنا: ’’مومنوں کی روحیں سبز پرندوں میں ہیں،جنت کے درختوں سے(پھل) کھاتی ہیں‘‘۔انہوں نے کہا: ہاں(یہ تو سنا ہے۔) انہوں نے کہا: میرا بھی یہی مطلب ہے۔