Sunan ibn Majah Hadith 1462 (سنن ابن ماجہ)

[1462] إسنادہ موضوع

عباد بن کثیر: متروک وشیخہ عمرو بن خالد الواسطي: متروک

انوار الصحیفہ ص 430

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ،عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ،عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ،عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ،عَنْ عَلِيٍّ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا،وَكَفَّنَہُ،وَحَنَّطَہُ،وَحَمَلَہُ،وَصَلَّی عَلَيْہِ،وَلَمْ يُفْشِ عَلَيْہِ مَا رَأَی،خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِہِ،مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ))

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے میت کو غسل دیا،کفن دیا،خوشبو لگائی اور اسے اٹھایا(قبرستان کو لے جاتے ہوئے اس کی چار پائی کو کندھا دیا) اس کا جنازہ پڑھا،اس کی جو چیز نظر آئی(جو ظاہر کرنے کے قابل نہ ہو) اسے ظاہر نہ کیا،وہ گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جاتا ہے جس طرح اپنی ماں کے ہاں پیدا ہونے کے دن(گناہوں سے پاک صاف۔)تھا۔‘‘