Sunan ibn Majah Hadith 1608 (سنن ابن ماجہ)

[1608] إسنادہ ضعیف

مندل: ضعیف

وأسماء:لا یعرف حالھا (تقریب: 8529)

والسند ضعفہ البوصیري

انوار الصحیفہ ص 436، 437

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ أَبُو بَكْرٍ الْبَكَّائِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْدَلٌ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيہَا عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنَّ السِّقْطَ لَيُرَاغِمُ رَبَّہُ إِذَا أَدْخَلَ أَبَوَيْہِ النَّارَ فَيُقَالُ أَيُّہَا السِّقْطُ الْمُرَاغِمُ رَبَّہُ أَدْخِلْ أَبَوَيْكَ الْجَنَّةَ فَيَجُرُّہُمَا بِسَرَرِہِ حَتَّی يُدْخِلَہُمَا الْجَنَّةَ قال ابو علی:یراغم ربہ‘یغاضب

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’نا تمام بچہ اپنے رب سے جھگڑا کرے گا(اصرار کے ساتھ شفاعت کرے گا) جب اس کا رب اس کے والدین کو جہنم میں داخل کرے گا۔(اس کی اس شفاعت کے نتیجے میں) اسے کہا جائے گا: اے اپنے رب سے جھگڑنے والے ناتمام بچے! اپنے ماں باپ کو جنت میں لے جا،چنانچہ وہ انہیں اپنی آنول سے کھینچ کر جنت میں داخل کردے گا۔‘‘ ابو علی نے کہا: (یراغم ربہ) کے معنی ہیں(یغاضب) کہ وہ اپنے رب سے ناراضی کا اظہار کرے گا۔