Sunan ibn Majah Hadith 1611 (سنن ابن ماجہ)
[1611] إسنادہ ضعیف
أم عون: مقبولۃ (مستورۃ الحال) وأم عیسی (الخزاعیۃ) الجزار: لا یعرف حالھا (تقریب:8750،8754)
والحدیث السابق (الأصل: 1610) یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللہِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أُمِّ عِيسَی الْجَزَّارِ قَالَتْ حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَوْنٍ ابْنَةُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ جَدَّتِہَا أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ رَجَعَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِلَی أَہْلِہِ فَقَالَ إِنَّ آلَ جَعْفَرٍ قَدْ شُغِلُوا بِشَأْنِ مَيِّتِہِمْ فَاصْنَعُوا لَہُمْ طَعَامًا قَالَ عَبْدُ اللہِ فَمَا زَالَتْ سُنَّةً حَتَّی كَانَ حَدِيثًا فَتُرِكَ
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: جب جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ’’جعفر رضی اللہ عنہ کے گھر والے مرحوم کی وجہ سے مشغول ہیں(غم کی وجہ سے کھانا وغیرہ تیار کرنے کی طرف توجہ نہیں کر سکتے) تم لوگ ان کے لیے کھانا تیار کرو۔‘‘ عبد اللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ نے فرمایا:یہ طریقہ جاری رہا حتی کہ وہ فخر ومیاہات اور شہرت کا سبب بن گیا‘چنانچہ اسے ترک کر دیا گیا۔