Sunan ibn Majah Hadith 1620 (سنن ابن ماجہ)

[1620]بخاری ومسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَتْ فَلَمَّا كَانَ مَرَضُہُ الَّذِي قُبِضَ فِيہِ أَخَذَتْہُ بُحَّةٌ فَسَمِعْتُہُ يَقُولُ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِمْ مِنْ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ فَعَلِمْتُ أَنَّہُ خُيِّرَ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا،آپ فرما رہے تھے: ’’جو بھی نبی بیمار ہوتا ہے،اسے دنیا اور آخرت میں سے ایک چیز کے انتخاب کا اختیار دیا جاتا ہے۔‘‘ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ پر وہ بیماری آئی جس میں آپ کی وفات ہوئی (اس دوران میں ایک دفعہ)نبی ﷺ کی آواز بھاری ہوگئی۔میں نے سنا تو آپ فرما رہے تھے(مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ) ’’ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعامات نازل کیے ہیں،نبیوں،صدیقوں،شہیدوں اور نیک لوگوں میں سے۔‘‘ تب مجھے یقین ہوگیا کہ نبی ﷺ کو وہ اختیار دے دیا گیا ہے۔