Sunan ibn Majah Hadith 1627 (سنن ابن ماجہ)
[1627] إسنادہ ضعیف
عبد الرحمٰن بن أبي بکر الملیکي: ضعیف
وأصل الحدیث صحیح
أخرجہ البخاري (1241،1242) وغیرہ نحوہ بإختلاف یسیر
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ امْرَأَتِہِ ابْنَةِ خَارِجَةَ بِالْعَوَالِي فَجَعَلُوا يَقُولُونَ لَمْ يَمُتْ النَّبِيُّ ﷺ إِنَّمَا ہُوَ بَعْضُ مَا كَانَ يَأْخُذُہُ عِنْدَ الْوَحْيِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ عَنْ وَجْہِہِ وَقَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْہِ وَقَالَ أَنْتَ أَكْرَمُ عَلَی اللہِ مِنْ أَنْ يُمِيتَكَ مَرَّتَيْنِ قَدْ وَاللہِ مَاتَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَعُمَرُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ يَقُولُ وَاللہِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَلَا يَمُوتُ حَتَّی يَقْطَعَ أَيْدِيَ أُنَاسٍ مِنْ الْمُنَافِقِينَ كَثِيرٍ وَأَرْجُلَہُمْ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللہَ فَإِنَّ اللہَ حَيٌّ لَمْ يَمُتْ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَی عَقِبَيْہِ فَلَنْ يَضُرَّ اللہَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللہُ الشَّاكِرِينَ قَالَ عُمَرُ فَلَكَأَنِّي لَمْ أَقْرَأْہَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اس وقت ابو بکر رضی اللہ عنہ عوالی میں اپنی زوجہ محترمہ خارجہ کی بیٹی کے ہاں تشریف فرما تھے۔بعض افراد نے کہا: نبی ﷺ فوت نہیں ہوئے،یہ تو اس سے ملتی جلتی کیفیت ہے،جو رسول اللہ ﷺ پر نزول وحی کے موقع پر طاری ہوا کرتی تھی۔ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہٴ اقدس سے کپڑا ہٹایا اور دونوں آنکھوں کے درمیان(پیشانئ مبارک پر) بوسہ دیا اور فرمایا: اللہ کے ہاں آپ کی شان اتنی بلند ہے کہ وہ آپ پر دوبار موت طاری نہیں کرے گا،اللہ کی قسم! اللہ کے رسول ﷺ فوت ہوگئے ہیں۔(اس وقت) عمر رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک حصے میں فرما رہے تھے: قسم ہے اللہ کی! اللہ کے رسول ﷺ فوت نہیں ہوئے اور آپ ﷺ اس وقت تک فوت نہیں ہوں گے جب تک بہت سے منافقوں کے ہاتھ پاؤں نہیں کاٹ دیتے۔ابو بکر رضی اللہ عنہ اٹھ کر منبر پر چلے گئے اور فرمایا: جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ زندہ ہے،فوت نہیں ہوا،اور جو کوئی محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو(اس کے معبود) محمد ﷺ کی تو وفات ہوگئی۔(اور یہ آیت پڑھی:)(وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ وَمَنْ یَنْقَلِبْ عَلَی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَضُرَّ اللہَ شَیْئًا وَسَیَجْزِی اللہُ الشَّاکِرِینَ)’’اور محمد (ﷺ) صرف ایک رسول ہیں۔اس سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔تو اگر وہ فوت ہو جائیں یا شہید ہو جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ کا کچ نقصان نہیں کرے گا۔اور شکر گزاروں کو اللہ جزادے گا۔‘‘ عمر رضی اللہ عنہ نے (بعد میں) فرمایا: مجھے تو (ابو بکر سے یہ آیت سن کر) یوں محسوس ہوا تھا،گویا میں نے(یہ آیت) اسی دن پڑھی ہے(گویا پہلے کبھی پڑھی یا سنی ہی نہیں۔)