Sunan ibn Majah Hadith 1628 (سنن ابن ماجہ)
[1628] إسنادہ ضعیف
الحسین بن عبد اللہ: ضعیف (تقریب: 1326)
وقال الھیثمي: وھو متروک ضعفہ الجمھور (مجمع الزوائد 60/5)
وقال البیہقي: ضعفہ أکثر أصحاب الحدیث (السنن الکبری 10/ 346)
ودفن الأنبیاء حیث قبضوا صحیح،انظر سنن الترمذي (1018)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَہْضَمِيُّ أَنْبَأَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللہِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَحْفِرُوا لِرَسُولِ اللہِ ﷺ بَعَثُوا إِلَی أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَكَانَ يَضْرَحُ كَضَرِيحِ أَہْلِ مَكَّةَ وَبَعَثُوا إِلَی أَبِي طَلْحَةَ وَكَانَ ہُوَ الَّذِي يَحْفِرُ لِأَہْلِ الْمَدِينَةِ وَكَانَ يَلْحَدُ فَبَعَثُوا إِلَيْہِمَا رَسُولَيْنِ وَقَالُوا اللہُمَّ خِرْ لِرَسُولِكَ فَوَجَدُوا أَبَا طَلْحَةَ فَجِيءَ بِہِ وَلَمْ يُوجَدْ أَبُو عُبَيْدَةَ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ فَلَمَّا فَرَغُوا مِنْ جِہَازِہِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وُضِعَ عَلَی سَرِيرِہِ فِي بَيْتِہِ ثُمَّ دَخَلَ النَّاسُ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ أَرْسَالًا يُصَلُّونَ عَلَيْہِ حَتَّی إِذَا فَرَغُوا أَدْخَلُوا النِّسَاءَ حَتَّی إِذَا فَرَغُوا أَدْخَلُوا الصِّبْيَانَ وَلَمْ يَؤُمَّ النَّاسَ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ أَحَدٌ لَقَدْ اخْتَلَفَ الْمُسْلِمُونَ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يُحْفَرُ لَہُ فَقَالَ قَائِلُونَ يُدْفَنُ فِي مَسْجِدِہِ وَقَالَ قَائِلُونَ يُدْفَنُ مَعَ أَصْحَابِہِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ مَا قُبِضَ نَبِيٌّ إِلَّا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ قَالَ فَرَفَعُوا فِرَاشَ رَسُولِ اللہِ ﷺ الَّذِي تُوُفِّيَ عَلَيْہِ فَحَفَرُوا لَہُ ثُمَّ دُفِنَ ﷺ وَسَطَ اللَّيْلِ مِنْ لَيْلَةِ الْأَرْبِعَاءِ وَنَزَلَ فِي حُفْرَتِہِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ وَقُثَمُ أَخُوہُ وَشُقْرَانُ مَوْلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ وَقَالَ أَوْسُ بْنُ خَوْلِيٍّ وَہُوَ أَبُو لَيْلَی لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنْشُدُكَ اللہَ وَحَظَّنَا مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ لَہُ عَلِيٌّ انْزِلْ وَكَانَ شُقْرَانُ مَوْلَاہُ أَخَذَ قَطِيفَةً كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَلْبَسُہَا فَدَفَنَہَا فِي الْقَبْرِ وَقَالَ وَاللہِ لَا يَلْبَسُہَا أَحَدٌ بَعْدَكَ أَبَدًا فَدُفِنَتْ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: جب صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ کے لیے قبر تیار کرنے کا ارادہ کیا تو ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا،وہ مکہ والوں کے رواج کے مطابق صندوقی(شق والی) قبر بناتے تھے۔اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو بھی پیغام بھیجا،وہ مدینہ والوں کی قبریں تیار کیا کرتے تھے اور بغلی (لحد والی) قبر بناتے تھے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان دونوں حضرات کی طرف دو(الگ الگ) آدمیوں کو بھیجا اور کہا: اے اللہ! اپنے رسول ﷺ کے لئے بہتر صورت مہیا فرما۔ابو طلحہ مل گئے،انہیں (قبر تیار کرنے کے لئے) لے آیا گیا۔ابو عبیدہ (گھر پر) نہ ملے۔چنانچہ ابو طلحہ نے نبی ﷺ کے لئے بغلی(لحد والی) قبر تیار کی۔منگل کے دن جب رسول اللہ ﷺ کی تجہیز و تکفین سے فراغ ہوئی تو آپ ﷺ (کے جسد مبارک) کو آپ کے حجرہٴ مبارک میں آپ کی چار پائی پر لٹا دیا گہا۔لوگ گروہ در گرو اندر داخل ہوتے تھے اور نماز جنازہ ادا کرتے۔جب مرد فارغ ہوگئے تو خواتین کو داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔جب ان سے فراغت ہوئی تو بچوں کو اندر جانے کی اجازت دی گئی۔رسول اللہ ﷺ کی نماز جنازہ کے لیے کسی نے لوگوں کی امامت نہیں کی۔(اس کے بعد) مسلمانوں میں اس معاملے میں اختلاف رائے پیش آیا کے رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کہاں تیار کی جائے۔کچھ حضرات نے کہا: نبی ﷺ کو مسجد نبوی میں دفن کیا جائے۔کچھ حضرات نے کہا نبی ﷺ کو اپنے صحابہ کے ساتھ(بقیع کے قبرستان میں) دفن کیا جائے۔ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ فرمان سنا ہے:‘‘جو بھی نبی فوت ہوا،وہ جہاں فوت ہوا،وہیں دفن ہوا۔’’چنانچہ صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کا بستر اٹھایا جس پر آپ کی وفات ہوئی تھی اور(اس مقام پر) نبی ﷺ کی قبر مبارک تیار کی،پھر بدھ کی رات،آدھی رات کے وقت آپ ﷺ کی تدفین عمل میں آئی۔علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ ان کے بھائی قثم اور رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام شقران رضی اللہ قبر میں اترے۔ابو لیلیٰ اوس بن خولی نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کو اللہ کا واسطہ اور رسول اللہ ﷺ سے ہمارے تعلق کا واسطہ! علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ بھی(قبر میں) اتر آئیں۔شقران مولیٰ رسول اللہ ﷺ کے پاس وہ چادر تھی جو رسول اللہ ﷺ اوڑھا کرتے تھے۔انہوں نے وہ چادر بھی قبر میں دفن کر دیا اور کہا: اللہ کی قسم! آپ کے بعد یہ چادر کبھی کوئی دوسرا شخص استعمال نہیں کرے گا،چنانچہ وہ چادر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی دفن ہوئی۔