Sunan ibn Majah Hadith 1634 (سنن ابن ماجہ)

[1634] إسنادہ ضعیف

موسی بن عبد اللہ: مجہول (تقریب: 6982)

انوار الصحیفہ ص 438

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ حَدَّثَنَا خَالِي مُحَمَّدُ ابْنُ إِبْرَاہِيمَ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّہْمِيُّ حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللہِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہَا قَالَتْ كَانَ النَّاسُ فِي عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ إِذَا قَامَ الْمُصَلِّي يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِہِمْ مَوْضِعَ قَدَمَيْہِ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُہُمْ يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِہِمْ مَوْضِعَ جَبِينِہِ فَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ عُمَرُ فَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُہُمْ يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِہِمْ مَوْضِعَ الْقِبْلَةِ وَكَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَكَانَتْ الْفِتْنَةُ فَتَلَفَّتَ النَّاسُ يَمِينًا وَشِمَالًا

نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ ام سلمہ بنت ابو امیہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں لوگوں کی یہ حالت تھی کہ جب آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نظر قدموں سے آگے نہ بڑھتی جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی تو لوگوں کی یہ حالت ہوگئی کہ جب کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نظر اس کی پیشانی رکھنے کی جگہ (سجدے کی جگہ) سے آگے نہیں بڑھتی تھی،پھر ابو بکر فوت ہوگئے اور عمر (خلیقہ) مقرر ہوگئے تو لوگوں کی یہ حالت ہوگئی کہ جب کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ فبلے کی طرف سے نہیں ہٹتی تھی‘پھر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ(خلیفہ)مقرر ہوئے تو(ان کے دور حکومت میں)فتنہ برپا ہوا اور(فتنے کے اس دور میں)لوگ(نماز میں)دائیں بائیں جھانکنے لگے۔