Sunan ibn Majah Hadith 1642 (سنن ابن ماجہ)
[1642] إسنادہ ضعیف
ترمذي (682)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ إِذَا كَانَتْ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتْ الشَّيَاطِينُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْہَا بَابٌ وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْہَا بَابٌ وَنَادَی مُنَادٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ وَلِلَّہِ عُتَقَاءُ مِنْ النَّارِ وَذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو جکڑ دیا جاتا ہے۔جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ان مین سے کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں،ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں رہتا۔اور ایک اعلان کرنے والا منادی کرتا ہے: اے نیکی کے طلب گار،آگے بڑھ اور اے برائی کے طلب گار رک جا۔اور اللہ تعالیٰ جہنم سے(بعض) لوگوں کو آزاد کرتا ہے۔(رمضان میں) ہر رات اسی طرح ہوتا ہے۔‘‘