Sunan ibn Majah Hadith 1696 (سنن ابن ماجہ)

[1696]بخاری ومسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَكِيمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّہْدِيِّ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سُحُورِہِ فَإِنَّہُ يُؤَذِّنُ لِيَنْتَبِہَ نَائِمُكُمْ وَلِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ ہَكَذَا وَلَكِنْ ہَكَذَا يَعْتَرِضُ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ

عبداللہ بن مسعود رضٰ اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کسی کو بلال(رضی اللہ عنہ) کی اذان سحری کھانے سے مانع نہ ہو،وہ تو اس لیے اذان دیت اہے کہ تم میں سے جو سو رہا ہے،وہ جاگ جائے اور جو قیام کر رہا ہے وہ (نماز فجر کی تیاری کی طرف) لوٹ جائے۔اور فجر یہ نہیں کہ (روشنی) اس طرح(اوپر بلند) ہوجائے،بلکہ اس طرح ہے،یعنی آسمان کے افق پر چوڑائی کے رخ پھیل جائے۔