Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 1879 (سنن ابن ماجہ)

[1879]صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ،عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَی،عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ،قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((أَيُّمَا امْرَأَةٍ لَمْ يُنْكِحْہَا الْوَلِيُّ،فَنِكَاحُہَا بَاطِلٌ،فَنِكَاحُہَا بَاطِلٌ،فَنِكَاحُہَا بَاطِلٌ،فَإِنْ أَصَابَہَا،فَلَہَا مَہْرُہَا بِمَا أَصَابَ مِنْہَا،فَإِنِ اشْتَجَرُوا،فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَہُ))

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس عورت کا نکاح سر پرست نے نہیں کیا،اس کا نکاح باطل ہے،اس کا نکاح باطل ہے،اس کا نکاح باطل (کالعدم) ہے۔اگر مرد اس سے مقاربت کر لے تو اس کی مقاربت کی وجہ سے اس عورت کو حق مہر ادا کیا جائے گا۔اگر ان (سرپرستوں) میں باہم اختلاف ہو جائے تو جس کا کوئی ولی (سرپرست) نہ ہو،بادشاہ اس کا ولی (سرپرست) ہے۔