Sunan ibn Majah Hadith 1887 (سنن ابن ماجہ)
[1887]حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ ہَارُونَ،عَنِ ابْنِ عَوْنٍ،ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَہْضَمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ،عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ،قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَا تُغَالُوا صَدَاقَ النِّسَاءِ،فَإِنَّہَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا،أَوْ تَقْوًی عِنْدَ اللہِ،كَانَ أَوْلَاكُمْ وَأَحَقَّكُمْ بِہَا مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،مَا أَصْدَقَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِہِ،وَلَا أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِہِ أَكْثَرَ مِنَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً،وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُثَقِّلُ صَدَقَةَ امْرَأَتِہِ حَتَّی يَكُونَ لَہَا عَدَاوَةٌ فِي نَفْسِہِ،وَيَقُولُ: قَدْ كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ،أَوْ عَرَقَ الْقِرْبَةِ وَكُنْتُ رَجُلًا عَرَبِيًّا مَوْلِدًا،مَا أَدْرِي مَا عَلَقُ الْقِرْبَةِ،أَوْ عَرَقُ الْقِرْبَةِ
حضرت ابوالعجفاء سلمی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے،حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورتوں کے حق مہر میں غلو نہ کرو،اگر یہ کام (بہت زیادہ حق مہر مقرر کرنا) دنیا میں عزت کا باعث ہوتا،یا اللہ کے ہاں تقویٰ (اور نیکی کا شمار) ہوتا تو حضرت محمد ﷺ زیادہ حق رکھتے تھے کہ ایسا کرتے۔بارہ اوقیہ سے زیادہ نہ نبی ﷺ نے اپنی کسی زوجہ محترمہ کو حق مہر دیا اور نہ آپ کی کسی بیٹی کو ملا۔آدمی اپنی بیوی کے لیے بہت زیادہ حق مہر مقرر کر لیتا ہے۔بعد میں اس کے دل میں بیوی سے نفرت کا باعث بن جاتا ہے۔اور وہ کہتا ہے: میں نے تیرے لیے مشکیزے کی رسی اٹھائی۔یا مشک کا پسینہ برداشت کیا۔ ابوالعجفاء رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: میں مولد عربی تھا،(اس لیے اس محاورے کو سمجھ نہیں سکا۔) معلوم نہیں علق القربۃ (مشک کی رسی) یا علق القربہ (مشک کا پسینہ)،اس کا کیا مطلب ہے۔