Sunan ibn Majah Hadith 1892 (سنن ابن ماجہ)
[1892] إسنادہ ضعیف
سنن أبي داود (2118) ترمذي (1105) نسائي (1405،3279)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي،عَنْ جَدِّي أَبِي إِسْحَاقَ،عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ،قَالَ: أُوتِيَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ جَوَامِعَ الْخَيْرِ،وَخَوَاتِمَہُ،أَوْ قَالَ: فَوَاتِحَ الْخَيْرِ،فَعَلَّمَنَا خُطْبَةَ الصَّلَاةِ،وَخُطْبَةَ الْحَاجَةِ،خُطْبَةُ الصَّلَاةِ: ((التَّحِيَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ،السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّہَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَكَاتُہُ،السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِينَ،أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ،وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ))،وَخُطْبَةُ الْحَاجَةِ: أَنِ الْحَمْدُ لِلَّہِ،نَحْمَدُہُ،وَنَسْتَعِينُہُ،وَنَسْتَغْفِرُہُ،وَنَعُوذُ بِاللہِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا،وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا،مَنْ يَہْدِہِ اللہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ،وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا ہَادِيَ لَہُ،وَأَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِيكَ لَہُ،وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ،ثُمَّ تَصِلُ خُطْبَتَكَ بِثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللہِ: يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقَاتِہِ [آل عمران: 102] إِلَی آخِرِ الْآيَةِ،وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ [النساء: 1] إِلَی آخِرِ الْآيَةِ،اتَّقُوا اللہَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ [الأحزاب: 71] إِلَی آخِرِ الْآيَةِ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کو بھلائی کی جامع چیزیں اور اس کی آخری چیزیں عطا ہوئیں۔یا فرمایا: نیکی کے شروع اور آخر کی چیزیں (یا الفاظ)۔چنانچہ نبی ﷺ نے ہمیں نماز کا خطبہ بھی سکھایا اور حاجت کا خطبہ بھی۔نماز کا خطبہ یہ ہے: (التحیات للہ والصلوات والطیبات‘ السلام علیکم ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین‘ اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا عبدہ ورسولہ) تمام زبانی عبادتیں،بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔اور خطبہ حاجت یہ ہے: (الحمدللہ نحمدہ و نستتعنہ ونستغفرہ ونعوذباللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا‘ من یہدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ہادی لہ. واشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ‘ واشہد ان محمدا عبدہ ورسولہ) تمام تعریف اللہ کے لیے ہے،ہم اس کی تعریف کرتے ہیں،اس سے مدد مانگتے ہیں،اس سے بخشش مانگتے ہیں،ہم اپنے نفسوں کی سرارتوں سے اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔جسے اللہ ہدایت دے،اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ رہنے دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جس کا کوئی شریک نہیں۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔پھر خطبہ میں کتاب اللہ کی تین آیات بھی پڑھیں: (یَـٰٓأَیُّہَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللہَ حَقَّ تُقَاتِہِۦ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ) اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو،جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حالت میں کہ تم مسلمان ہو۔(یَـٰٓأَیُّہَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّکُمُ ٱلَّذِی خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَٰحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیرًۭا وَنِسَآءً ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللہَ ٱلَّذِی تَسَآءَلُونَ بِہِۦ وَٱلْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ ٱللہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیبًا) اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کر کے ان دونوں سے مرد اور عورتیں کثرت سے پھیلا دیے۔اور اس اللہ سے ڈرو جس کے نام سے تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو۔اور رشتے ناتے توڑنے سے بچو،بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے۔(یَـٰٓأَیُّہَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللہَ وَقُولُوا۟ قَوْلًا سَدِیدًا ﴿٧٠﴾ یُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَـٰلَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ ۗ وَمَن یُطِعِ ٱللہَ وَرَسُولَہُۥ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیمًا ﴿٧١﴾) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو،اور سیدھی (دو ٹوک اور سچی) بات کہو۔وہ (اللہ) تمہارے کام سنوار دے گا،اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو یقینا اس نے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔