Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 1900 (سنن ابن ماجہ)

[1900] إسنادہ ضعیف

أبو الزبیر عنعن

وأصل الحدیث في صحیح البخاري (5162)

انوار الصحیفہ ص 448

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَجْلَحُ،عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: أَنْكَحَتْ عَائِشَةُ ذَاتَ قَرَابَةٍ لَہَا مِنَ الْأَنْصَارِ،فَجَاءَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ: ((أَہْدَيْتُمُ الْفَتَاةَ؟)) قَالُوا: نَعَمْ،قَالَ: ((أَرْسَلْتُمْ مَعَہَا مَنْ يُغَنِّي))،قَالَتْ: لَا،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيہِمْ غَزَلٌ،فَلَوْ بَعَثْتُمْ مَعَہَا مَنْ يَقُولُ: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُمْ

حضرت عبداللہ بن عبس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک رشتہ دار انصاری لڑکی کی شادی کی۔رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: تم لوگوں نے لڑکی کو رخصت کر دیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔فرمایا: کیا تم نے اس کے ساتھ کسی کو بھیجا ہے جو گیت گائے؟ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا: جی نہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انصار لوگ گیت وغیرہ پسند کرتے ہیں۔(بہتر ہوتا) اگر تم اس کے ساتھ (کسی کو) بھیجتے جو کہتا: (اتیناکم اتیناکم‘ فحیانا وحیاکم) ہم تمہارے پاس آئے ہیں۔ہم تمہارے پاس آئے ہیں۔ہمیں بھی مبارک،تمہیں بھی مبارک۔