Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 1939 (سنن ابن ماجہ)

[1939]بخاری ومسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ،عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ،عَنِ ابْنِ شِہَابٍ،عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ،أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ،حَدَّثَتْہُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ حَدَّثَتْہَا،أَنَّہَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: انْكِحْ أُخْتِي عَزَّةَ،قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((أَتُحِبِّينَ ذَلِكِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللہِ،فَلَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ،وَأَحَقُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي،قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَحِلُّ لِي))،قَالَتْ: فَإِنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ،فَقَالَ: ((بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ،قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((فَإِنَّہَا لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي،إِنَّہَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ،أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاہَا ثُوَيْبَةُ،فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ أَخَوَاتِكُنَّ وَلَا بَنَاتِكُنَّ))،حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَيْرٍ،عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ،عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ،عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ نَحْوَہُ

حضرت زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں (ام حبیبہ رضی اللہ عنہا) نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: میری ہمشیرہ عزہ سے نکاح فرما لیجئے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تجھے یہ بات پسند ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں،اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس اکیلی تو نہیں ہوں (کہ سوکن کی موجودگی پسند نہ کروں) اور خیر و برکت میں میری شراکت کا حق سب سے زیادہ میری بہن کو ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تو میرے لیے جائز نہیں۔انہوں نے کہا: ہم لوگ باتیں کرتے ہیں (سننے میں آیا ہے) کہ آپ درہ بنت ابوسلمہ سے نکاح کرنے والے ہیں۔نبی ﷺ نے فرمایا: ابوسلمہ کی بیٹی سے؟ کہا: جی ہاں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ میرے گھر میں پرورش پانے والی (سوتیلی) بیٹی نہ ہوتیم تب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔وہ تو دودھ کے رشتے سے میری بھتیجی ہے۔مجھے اور اس کے والد کو ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا۔تم میرے لیے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی پیشکش نہ کیا کرو۔ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے یہی روایت ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔