Sunan ibn Majah Hadith 1943 (سنن ابن ماجہ)
[1943]صحیح
صحیح مسلم
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ عَائِشَةَ،قَالَتْ: جَاءَتْ سَہْلَةُ بِنْتُ سُہَيْلٍ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ،إِنِّي أَرَی فِي وَجْہِ أَبِي حُذَيْفَةَ الْكَرَاہِيَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَيَّ،فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((أَرْضِعِيہِ))،قَالَتْ: كَيْفَ أُرْضِعُہُ وَہُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ؟ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،وَقَالَ: ((قَدْ عَلِمْتُ أَنَّہُ رَجُلٌ كَبِيرٌ))،فَفَعَلَتْ،فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ فِي وَجْہِ أَبِي حُذَيْفَةَ شَيْئًا أَكْرَہُہُ بَعْدُ،وَكَانَ شَہِدَ بَدْرًا
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب سالم میرے ہاں آتے ہیں تو مجھے (اپنے شوہر) حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ناگواری کے آثار نظر آتے ہیں تو نبی ﷺ نے فرمایا: اسے دودھ پلا دو۔انہوں نے کہا: میں اسے کس طرح دودھ پلاؤں،وہ تو جوان آدمی ہے؟ رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: مجھے معلوم ہے کہ وہ جوان آدمی ہے۔سہلہ رضی اللہ عنہا نے ایسے ہی کیا۔(بعد میں) وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: اس کے بعد میں نے حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر وہ تاثرات نہیں دیکھے جو مجھے ناگوار ہوں۔حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں شریک تھے۔