Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 1962 (سنن ابن ماجہ)

[1962]صحیح

صحیح مسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ،عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ،عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ،عَنْ أَبِيہِ،قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ،فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ،إِنَّ الْعُزْبَةَ قَدِ اشْتَدَّتْ عَلَيْنَا،قَالَ: ((فَاسْتَمْتِعُوا مِنْ ہَذِہِ النِّسَاءِ))،فَأَتَيْنَاہُنَّ فَأَبَيْنَ أَنْ يَنْكِحْنَنَا إِلَّا أَنْ نَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَہُنَّ أَجَلًا،فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ: ((اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَہُنَّ أَجَلًا))،فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي،مَعَہُ بُرْدٌ وَمَعِي بُرْدٌ،وَبُرْدُہُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدِي،وَأَنَا أَشَبُّ مِنْہُ،فَأَتَيْنَا عَلَی امْرَأَةٍ،فَقَالَتْ: بُرْدٌ كَبُرْدٍ،فَتَزَوَّجْتُہَا،فَمَكَثْتُ عِنْدَہَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ،ثُمَّ غَدَوْتُ وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ،وَہُوَ يَقُولُ: ((أَيُّہَا النَّاسُ،إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ،أَلَا وَإِنَّ اللہَ قَدْ حَرَّمَہَا إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ،فَمَنْ كَانَ عِنْدَہُ مِنْہُنَّ شَيْءٌ فَلْيُخْلِ سَبِيلَہَا،وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوہُنَّ شَيْئًا))

حضرت ربیع بن سمرہ اپنے والد (حضرت سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ہم حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے (راستے میں بعض) صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے مجرد رہنا دشوار ہو گیا ہے۔آپ نے فرمایا: عورتوں سے متعہ کر لو۔ہم عورتوں کے پاس گئے،انہوں نے مدت کے تعین کے بغیر ہم سے نکاح کرنے سے انکار کیا۔صحابہ نے نبی ﷺ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ان سے مدت متعین کر لو۔چنانچہ میں اور میرا ایک چچا زاد (ہم دونوں) روانہ ہوئے۔اس کے پاس ایک چادر تھی اور میرے پاس بھی ایک چادر تھی۔اس کی چادر میری چادر سے اچھی تھی اور میں اس سے جوان تھا۔ہم ایک عورت کے ہاں پہنچے (اور اس سے بات کی۔) اس نے کہا: چادر چادر برابر ہے۔چنانچہ میں نے اس سے نکاح کر لیا۔اور اس رات اس کے ہاں ٹھہرا۔صبح ہوئی تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ کے دروازے اور رکن کے درمیان کھڑے ہیں،اور فرما رہے ہیں: لوگو! میں نے تمہیں متعہ کی اجازت دی تھی،سنو! اللہ نے اسے قیامت تک کے لیے حرام فرما دیا ہے،لہذا جس کے پاس کوئی ایسی عورت ہے،وہ اسے آزاد کر دے۔اور تم نے انہیں جو کچھ دیا ہے،اس میں سے کچھ بھی (واپس) نہ لو۔