Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 1986 (سنن ابن ماجہ)

[1986]حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی،والْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ الطَّحَّانُ،قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمَّادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ،عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْأَوْدِيِّ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ،عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ،قَالَ: ضِفْتُ عُمَرَ لَيْلَةً،فَلَمَّا كَانَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ،قَامَ إِلَی امْرَأَتِہِ يَضْرِبُہَا،فَحَجَزْتُ بَيْنَہُمَا،فَلَمَّا أَوَی إِلَی فِرَاشِہِ قَالَ لِي: يَا أَشْعَثُ،احْفَظْ عَنِّي شَيْئًا سَمِعْتُہُ عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،((لَا يُسْأَلُ الرَّجُلُ فِيمَ يَضْرِبُ امْرَأَتَہُ،وَلَا تَنَمْ إِلَّا عَلَی وِتْرٍ))،وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَہُ

حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: میں ایک رات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں مہمان رہا۔آدھی رات ہوئی تو وہ اٹھ کر اپنی عورت کو مارنے لگے،میں نے بیچ بچاؤ کرا دیا۔جب وہ اپنے بستر پر گئے تو مجھ سے فرمایا: اے اشعث! میری ایک بات یاد رکھنا۔میں نے وہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔(آپ نے فرمایا: مرد سے نہیں پوچھنا چاہیے کہ اس نے اپنی عورت کو کیوں مارا۔اور وتر پڑھے بغیر مت سویا کر۔اور تیسری بات مجھے یاد نہیں رہی۔ حضرت ابوعوانہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دوسری سند سے بھی مذکورہ بالا روایت کی مانند بیان کیا۔