Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 1988 (سنن ابن ماجہ)

[1988]بخاری ومسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ،عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،عَنْ فَاطِمَةَ،عَنْ أَسْمَاءَ،قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَتِي عُرَيِّسٌ،وَقَدْ أَصَابَتْہَا الْحَصْبَةُ فَتَمَرَّقَ شَعْرُہَا،فَأَصِلُ لَہَا فِيہِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((لَعَنَ اللہُ الْوَاصِلَةَ،وَالْمُسْتَوْصِلَةَ))

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا: میری بیٹی دلہن ہے۔(اس کی شادی قریب ہے۔) اسے چیچک نکل آئی ہے اور بال جھڑ گئے ہیں تو کیا میں اس کے بالوں میں دوسرے بال ملا دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے لعنت کی ہے بال ملانے والی اور ملوانے والی پر۔