Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 1989 (سنن ابن ماجہ)

[1989]بخاری ومسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو،وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ،قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ إِبْرَاہِيمَ،عَنْ عَلْقَمَةَ،عَنْ عَبْدِ اللہِ،قَالَ: ((لَعَنَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ،وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ،وَالْمُتَنَمِّصَاتِ،وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ،الْمُغَيِّرَاتِ لِخَلْقِ اللہِ))،فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ،يُقَالُ لَہَا أُمُّ يَعْقُوبَ،فَجَاءَتْ إِلَيْہِ،فَقَالَتْ: بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ: كَيْتَ وَكَيْتَ،قَالَ: وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،وَہُوَ فِي كِتَابِ اللہِ؟ قَالَتْ: إِنِّي لَأَقْرَأُ مَا بَيْنَ لَوْحَيْہِ فَمَا وَجَدْتُہُ،قَالَ: إِنْ كُنْتِ قَرَأْتِہِ فَقَدْ وَجَدْتِہِ،أَمَا قَرَأْتِ: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاكُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا [الحشر: 7]،قَالَتْ: بَلَی،قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَدْ نَہَی عَنْہُ،قَالَتْ: فَإِنِّي لَأَظُنُّ أَہْلَكَ يَفْعَلُونَ،قَالَ: اذْہَبِي فَانْظُرِي،فَذَہَبَتْ فَنَظَرَتْ فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِہَا شَيْئًا،قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا،قَالَ عَبْدُ اللہِ: لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولِينَ مَا جَامَعَتْنَا

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ نے گودنے والیوں پر،گدوانے والیوں پر،بال نوچنے والیوں پر،حسن کے لیے دانتوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے والیوں پر اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنے والیوں پر لعنت فرمائی ہے۔قبیلہ بنو اسد کی ایک خاتون،جن کا نام ام یعقوب تھا،کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: مجھے معلوم ہوا ہےکہ آپ نے یہ یہ بات فرمائی ہے۔انہوں نے کہا: میں اس پر کیوں نہ لعنت کروں جس پر اللہ کے رسول ﷺ نے لعنت فرمائی ہے،اور یہ بات اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔اس نے کہا: میں نے تو شروع سے آخر تک سارا قرآن پڑھا ہوا ہے۔مجھے تو (اس میں) یہ مسئلہ نہیں ملا۔انہوں نے فرمایا: اگر تو نے (قرآن) پڑھا ہوتا تو تجھے (یہ مسئلہ) مل جاتا۔کیا تو نے یہ نہیں پڑھا: (وَمَآ ءَاتَیٰکُمُ ٱلرَّ‌سُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَیٰکُمْ عَنْہُ فَٱنتَہُوا۟) رسول تمہیں جو کچھ دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں،اس سے رک جاؤ۔اس نے کہا: جی ہاں۔(یہ تو پڑھا ہے۔) فرمایا: تو رسول اللہ ﷺ نے ان کاموں سے منع فرمایا ہے۔اس نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ کے گھر والے یہ کام کرتے ہیں۔انہوں نے فرمایا: جاؤ،جا کر دیکھ لو۔اس نے جا کر دیکھا تو اسے کوئی ایسی بات نظر نہ آئی جو وہ دیکھنا چاہتی تھی۔اس نے (واپس آ کر) کہا: مجھے تو کوئی بات نظر نہیں آئی۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر وہ بات اسی طرح ہوتی جس طرح تو کہتی تھی تو وہ (بیوی) ہمارے ساتھ نہ رہتی۔