Sunan ibn Majah Hadith 2031 (سنن ابن ماجہ)
[2031]صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ،عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ،عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ-وَكَانَتْ تَحْتَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ-أَنَّ أُخْتَہُ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكٍ،قَالَتْ: خَرَجَ زَوْجِي فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَہُ،فَأَدْرَكَہُمْ بِطَرَفِ الْقَدُومِ،فَقَتَلُوہُ،فَجَاءَ نَعْيُ زَوْجِي وَأَنَا فِي دَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ،شَاسِعَةٍ عَنْ دَارِ أَہْلِي،فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ،إِنَّہُ جَاءَ نَعْيُ زَوْجِي وَأَنَا فِي دَارٍ شَاسِعَةٍ عَنْ دَارِ أَہْلِي،وَدَارِ إِخْوَتِي،وَلَمْ يَدَعْ مَالًا يُنْفِقُ عَلَيَّ،وَلَا مَالًا وَرِثْتُہُ،وَلَا دَارًا يَمْلِكُہَا،فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْذَنَ لِي فَأَلْحَقَ بِدَارِ أَہْلِي،وَدَارِ إِخْوَتِي فَإِنَّہُ أَحَبُّ إِلَيَّ،وَأَجْمَعُ لِي فِي بَعْضِ أَمْرِي،قَالَ: ((فَافْعَلِي إِنْ شِئْتِ))،قَالَتْ: فَخَرَجْتُ قَرِيرَةً عَيْنِي لِمَا قَضَی اللہُ لِي عَلَی لِسَانِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،حَتَّی إِذَا كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ،أَوْ فِي بَعْضِ الْحُجْرَةِ دَعَانِي،فَقَالَ: ((كَيْفَ زَعَمْتِ؟))،قَالَتْ: فَقَصَصْتُ عَلَيْہِ،فَقَالَ: ((امْكُثِي فِي بَيْتِكِ الَّذِي جَاءَ فِيہِ نَعْيُ زَوْجِكِ حَتَّی يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَہُ))،قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيہِ أَرْبَعَةَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا
حضرت زینب بنت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہا جو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں،حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی ہمیشیرہ حضرت فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں،انہوں نے فرمایا: میرے شوہر اپنے کچھ (بھاگے ہوئے) غلاموں کی تلاش میں نکلے۔(آخر) قدوم جگہ کے قریب انہیں جا لیا۔غلاموں نے انہیں شہید کر دیا۔جب مجھے میرے خاوند کی وفات کی خبر ملی تو میں اپنے خاندان کے محلے سے دور انصار کے ایک مکان میں رہائش پزیر تھی۔میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے خاوند کی وفات کی خبر اس حال میں ملی ہے کہ میں ایک ایسے مکان میں رہ رہی ہوں جو میرے خاندان کے محلے سے بھی دور ہے اور میرے بھائیوں کے گھروں سے بھی دور ہے۔اور اس نے کوئی مال بھی نہیں چھوڑا جس سے میرا خرچ چلتا رہے،نہ کوئی مال چھوڑا ہے جو مجھے ترکے میں ملے،نہ ان کی ملکیت میں کوئی گھر تھا۔اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے اجازت دے دیں کہ میں اپنے اقارب اور اپنے بھائیوں کے گھر چلی جاؤں۔مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے اور اس سے میرے (روز مرہ کے) کام بہتر طور پر چلتے رہیں گے۔نبی ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہ وتو یوں ہی کر لو۔وہ فرماتی ہیں: میں باہر نکلی تو مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ اللہ نے اپنے رسول ﷺ کی زبان سے میرے حق میں فیصلہ فرمایا۔میں ابھی مسجد ہی میں تھی یا گھر کے صحن ہی میں تھی کہ آپ ﷺ نے مجھے (دوبارہ) طلب فرما لیا،پھر فرمایا: تم نے کیسے بیان کیا؟ میں نے دوبارہ صورت حال پیش کی۔نبی ﷺ نے فرمایا: جب تک اللہ کی مقرر کردہ مدت (موت کی عدت) پوری نہیں ہو جاتی،اسی گھر میں رہائش رکھو جہاں تمہیں اپنے خاوند کی وفات کی خبر پہنچی۔چنانچہ میں نے چار ماہ دس دن تک وہیں عدت گزاری۔