Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 2051 (سنن ابن ماجہ)

[2051] إسنادہ ضعیف / د

سنن أبي داود (2208) ترمذي (1177)

انوار الصحیفہ ص 452

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ الْبَتَّةَ فَأَتَی رَسُولَ اللہِ ﷺ فَسَأَلَہُ فَقَالَ مَا أَرَدْتَ بِہَا قَالَ وَاحِدَةً قَالَ آللہِ مَا أَرَدْتَ بِہَا إِلَّا وَاحِدَةً قَالَ آللہِ مَا أَرَدْتُ بِہَا إِلَّا وَاحِدَةً قَالَ فَرَدَّہَا عَلَيْہِ قَالَ مُحَمَّد بْن مَاجَةَ سَمِعْت أَبَا الْحَسَنِ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيَّ يَقُولُ مَا أَشْرَفَ ہَذَا الْحَدِيثَ قَالَ ابْن مَاجَةَ أَبُو عُبَيْدٍ تَرَكَہُ نَاجِيَةُ وَأَحْمَدُ جَبُنَ عَنْہُ

حضرت یزید بن رکانہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی،پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسئلہ دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس (لفظ) سے تیری نیت کیا تھی؟ انہوں نے کہا: ایک طلاق کی۔آپ ﷺ نے فرمایا: کیا اللہ کی قسم اٹھا کر کہتے ہو کہ تمہاری نیت ایک ہی طلاق کی تھی؟ انہوں نے کہا: قسم ہے اللہ کی! میری نیت صرف ایک طلاق کی تھی۔رسول اللہ ﷺ نے اس خاتون کو دوبارہ ان کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔(اور صحابی کو رجوع کرنے کی اجازت دے دی۔) امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: میں نے ابوالحسن علی بن محمد طنافسی کو فرماتے ہوئے سنا: یہ حدیث کتنی اچھی ہے! (کیونکہ اس سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ طلاق بتہ میں مرد کی نیت پر فیصلہ ہو گا۔اگر مرد نے ایک طلاق کی نیت کی ہو گی تو ایک واقع ہو گی،اگر تین کی نیت ہو گی تو تینوں واقع ہو جائیں گی۔) (نیز) امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ابوعبید کو ناجیہ نے متروک قرار دیا اور امام احمد نے اس سے روایت کرنے کی جرات نہیں کی۔