Sunan ibn Majah Hadith 2056 (سنن ابن ماجہ)
[2056] إسنادہ ضعیف
سعید بن أبي عروبۃ مدلس
و قتادۃ مدلس وعنعنا
و حدیث البخاري (5273) یغني عنہ من غیر قولہ: ’’ولا یزداد‘‘ فإنہ ضعیف
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَزْہَرُ بْنُ مَرْوَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ عِكْرِمَةَ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،أَنَّ جَمِيلَةَ بِنْتَ سَلُولَ،أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَقَالَتْ: وَاللہِ مَا أَعْتِبُ عَلَی ثَابِتٍ فِي دِينٍ،وَلَا خُلُقٍ،وَلَكِنِّي أَكْرَہُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ،لَا أُطِيقُہُ بُغْضًا،فَقَالَ لَہَا النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((أَتَرُدِّينَ عَلَيْہِ حَدِيقَتَہُ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ،فَأَمَرَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْہَا حَدِيقَتَہُ،وَلَا يَزْدَادَ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت جمیلہ بنت سلول رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: اللہ کی قسم! میں ثابت (بن قیس بن شماس) رضی اللہ عنہ کے دین اور اخلاق (کی کسی خرابی) کی وجہ سے ناراض نہیں لیکن مجھے مسلمان ہوتے ہوئے (خاوند کی) ناشکری کرنا اچاھ نہیں لگتا۔مجھے وہ اتنے برے لگتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔تو نبی ﷺ نے اسے فرمایا: کیا تم اسے اس کا باغ واپس دے دو گی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔رسول اللہ ﷺ نے حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ان سے باغ واپس لے لیں اور زائد کچھ نہ لیں۔