Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 2063 (سنن ابن ماجہ)

[2063]صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي،عَنِ الْأَعْمَشِ،عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ،عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ،قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: تَبَارَكَ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُہُ كُلَّ شَيْءٍ،إِنِّي لَأَسْمَعُ كَلَامَ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ وَيَخْفَی عَلَيَّ بَعْضُہُ،وَہِيَ تَشْتَكِي زَوْجَہَا إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ وَہِيَ تَقُولُ: يَا رَسُولَ اللہِ،أَكَلَ شَبَابِي،وَنَثَرْتُ لَہُ بَطْنِي،حَتَّی إِذَا كَبِرَتْ سِنِّي،وَانْقَطَعَ وَلَدِي،ظَاہَرَ مِنِّي،اللہُمَّ إِنِّي أَشْكُو إِلَيْكَ،فَمَا بَرِحَتْ حَتَّی نَزَلَ جِبْرَائِيلُ بِہَؤُلَاءِ الْآيَاتِ: قَدْ سَمِعَ اللہُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِہَا وَتَشْتَكِي إِلَی اللہِ [المجادلة: 1]

حضرت عروہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے،،انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ بڑی برکتوں والا ہے جو سب کچھ سنتا ہے۔جب حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ سے اپنے خاوند (حضرت اوس بن صامت رضی اللہ عنہ) کی شکایت کر رہی تھین تو میں بھی ان کی باتیں سن رہی تھی لیکن کچھ باتیں (قریب ہونے کے باوجود) میری سمجھ میں نہ آتی تھیں۔وہ کہہ رہی تھیں: اے اللہ کے رسول! (میرا خاوند) میری جوانی کھا گیا،میں نے اس کے لیے (بچے جن جن کر) پیٹ خالی کر دیا۔اب جب کہ میں بوڑھی ہو گئی ہوں اور مجھے اولاد ہونا بند ہو گئی ہے تو اس نے مجھ سے ظہار کر لیا ہے۔یا اللہ! میں تجھی سے شکایت کرتی ہوں۔وہ ابھی وہیں تھیں کہ جبرائیل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہو گئے: (قَدْ سَمِعَ ٱللہُ قَوْلَ ٱلَّتِی تُجَـٰدِلُکَ فِی زَوْجِہَا وَتَشْتَکِیٓ إِلَی ٱللہِ) یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی...