Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 2075 (سنن ابن ماجہ)

[2075]صحیح

صحیح بخاری

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی،وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاہِلِيُّ،قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ،عَنْ عِكْرِمَةَ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا،يُقَالُ لَہُ مُغِيثٌ،كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْہِ يَطُوفُ خَلْفَہَا وَيَبْكِي،وَدُمُوعُہُ تَسِيلُ عَلَی خَدِّہِ،فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: ((يَا عَبَّاسُ،أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ،وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا؟)) فَقَالَ لَہَا النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((لَوْ رَاجَعْتِيہِ،فَإِنَّہُ أَبُو وَلَدِكِ)) قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ،تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: ((إِنَّمَا أَشْفَعُ))،قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيہِ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے۔انہیں مغیث (رضی اللہ عنہ) کہتے تھے۔(مجھے وہ منظر یاد ہے) گویا میں ان (مغیث) کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے روتے پھر رہے ہیں اور ان کے رخساروں پر آنسو بہہ رہے ہیں تو نبی ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عباس! کیا آپ کو تعجب نہیں ہوتا کہ مغیث بریرہ سے (شدید) محبت کرتا ہے اور بریرہ (رضی اللہ عنہا) مغیث (رضی اللہ عنہ) سے (شدید) نفرت کرتی ہے؟ (ایک بار) نبی ﷺ نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: کاش! تم ان سے رجوع کر لو،آخر وہ تمہارے بچوں کے باپ ہیں۔انہوں نے کہا: الہ کے رسول! آپ مجھے حکم فرما رہے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: میں تو سفارش کرتا ہوں۔تو انہوں نے کہا: مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں۔