Sunan ibn Majah Hadith 2123 (سنن ابن ماجہ)
[2123]صحیح
صحیح بخاری
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ،عَنْ سُفْيَانَ،عَنْ أَبِي الزِّنَادِ،عَنِ الْأَعْرَجِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ النَّذْرَ لَا يَأْتِي ابْنَ آدَمَ بِشَيْءٍ إِلَّا مَا قُدِّرَ لَہُ،وَلَكِنْ يَغْلِبُہُ الْقَدَرُ مَا قُدِّرَ لَہُ،فَيُسْتَخْرَجُ بِہِ مِنَ الْبَخِيلِ فَيُيَسَّرُ عَلَيْہِ مَا لَمْ يَكُنْ يُيَسَّرُ عَلَيْہِ مِنْ قَبْلِ ذَلِكَ،وَقَدْ قَالَ اللہُ: أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نذر آدم کے بیٹے کو اس کے سوا کچھ نہیں دلا سکتی جو اس کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے۔تقدیر نذر پر غالب آ جاتی ہے،جو اس کی قسمت میں ہے وہ ہو جائے گا۔لیییکن نذر کے ذریعے سے بخیل سے (کچھ نہ کچھ) نکلوایا جاتا ہے۔اس طرح اس پر وہ کام (غریب کی مدد کرنا) آسان ہو جاتا ہے جو پہلے آسان نہیں تھا،حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: تو خرچ کر،میں تجھ پر خرچ کروں گا (تجھے دنیا میں بھی دوں گا۔)