Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 2143 (سنن ابن ماجہ)

[2143] إسنادہ ضعیف

فیہ علل منھا ضعف یزید الرقاشي: زاہد ضعیف

انوار الصحیفہ ص 456

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِہْرَامٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ،زَوْجُ بِنْتِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،عَنِ الْأَعْمَشِ،عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((أَعْظَمُ النَّاسِ ہَمًّا الْمُؤْمِنُ،الَّذِي يَہْتَمُّ بِأَمْرِ دُنْيَاہُ وَأَمْرِ آخِرَتِہِ)) قَالَ أَبُو عَبْدِ اللہِ: ((ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ تَفَرَّدَ بِہِ إِسْمَاعِيلُ))

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے زیادہ پریشانی اس مومن کو ہوتی ہے جو اپنی دنیا کے معاملات کی بھی فکر کرتا ہے اور اپنی آخرت کے معاملات کی بھی۔ امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے۔اسے صرف اسماعیل (بن بہرام) نے روایت کیا ہے۔