Sunan ibn Majah Hadith 2235 (سنن ابن ماجہ)
[2235] إسنادہ ضعیف
ترمذي (3429)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ مَوْلَی آلِ الزُّبَيْرِ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ قَالَ حِينَ يَدْخُلُ السُّوقَ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِيكَ لَہُ لَہُ الْمُلْكُ وَلَہُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَہُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِہِ الْخَيْرُ كُلُّہُ وَہُوَ عَلَی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَتَبَ اللہُ لَہُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْہُ أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَبَنَی لَہُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھے: (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ‘ لہ الملک ولہ الحمد‘ یحیی و یمیت وہو حی لا یموت‘ بیدہ الخیر کلہ‘ وہو علی کل شئی قدیر) اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،اس کا کوئی شریک نہیں،بادشاہی اسی کی ہے اور تعریف بھی اسی کی ہے۔وہ زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے،اور وہ زندہ رہنے والا ہے جسے موت نہیں،اسی کے ہاتھ میں تمام کی تمام بھلائی ہے،اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ (ایک ملین) نیکیاں لکھتا ہے،اور دس لاکھ گناہ معاف فرماتا ہے۔اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر فرماتا ہے۔