Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 2260 (سنن ابن ماجہ)

[2260]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ أَقْبَلْتُ أَقُولُ مَنْ يَصْطَرِفُ الدَّرَاہِمَ فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللہِ وَہُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَرِنَا ذَہَبَكَ ثُمَّ ائْتِنَا إِذَا جَاءَ خَازِنُنَا نُعْطِكَ وَرِقَكَ فَقَالَ عُمَرُ كَلَّا وَاللہِ لَتُعْطِيَنَّہُ وَرِقَہُ أَوْ لَتَرُدَّنَّ إِلَيْہِ ذَہَبَہُ فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ الْوَرِقُ بِالذَّہَبِ رِبًا إِلَّا ہَاءَ وَہَاءَ

حضرت مالک بن اوس بن حدثان رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا: میں نے(کسی مجلس میں) آ کر کہا: ہمیں (دیناروں کے) بدلے میں درہم کون دے گا؟ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے۔انہوں نے فرمایا: ہمیں اپنا سونا دکھاؤ،پھر جب ہمارا خذانچی آئے گا تو ہمارے پاس آنا،ہم آپ کو آپ کی چاندی (درہموں کی صورت میں) ادا کریں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اللہ کی! ایسے نہیں ہو سکتا،آپ اسے چاندی (ابھی) ادا کریں،یا اس کا سونا واپس کر دیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: سونے کے بدلے میں چاندی (لینا یا دینا) سود ہے مگر دست بدست جائز ہے۔