Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 2261 (سنن ابن ماجہ)

[2261] إسنادہ ضعیف

عباس بن عثمان بن شافع: لا یعرف حالہ (تقریب:3179)

انوار الصحیفہ ص 459

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الشَّافِعِيُّ إِبْرَاہِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيہِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ شَافِعٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَہُمَا فَمَنْ كَانَتْ لَہُ حَاجَةٌ بِوَرِقٍ فَلْيَصْطَرِفْہَا بِذَہَبٍ وَمَنْ كَانَتْ لَہُ حَاجَةٌ بِذَہَبٍ فَلْيَصْطَرِفْہَا بِالْوَرِقِ وَالصَّرْفُ ہَاءَ وَہَاءَ

حضرت عمر بن محمد بن علی بن ابی طالب اپنے والد (حضرت محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ) سے اور وہ ان کے دادا (اور اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دینار کے بدلے میں دینار ہے اور درہم کے بدلے میں درہم۔ان میں کوئی کمی بیشی (جائز) نہیں۔جس کو چاندی کی ضرورت ہو،وہ سونے کے بدلے میں اسے حاصل کر لے،اور جسے سونے کی ضرورت ہو،وہ چاندی کے عوض تبادلہ کر کے لے لے۔اور صَرف (درہم و دینار کا باہمی تبادلہ) ہاتھوں ہاتھ ہوتا ہے۔