Sunan ibn Majah Hadith 2265 (سنن ابن ماجہ)
[2265]متفق علیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ نَہَی رَسُولُ اللہِ ﷺ عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ تَمْرَ حَائِطِہِ إِنْ كَانَتْ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا وَإِنْ كَانَتْ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَہُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا وَإِنْ كَانَتْ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَہُ بِكَيْلِ طَعَامٍ نَہَی عَنْ ذَلِكَ كُلِّہِ
) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا۔ مزابنہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کا پھل اس انداز سے فروخت کرے کہ کھجور کے درختوں کا پھل خشک کھجوروں کے عوض ماپ کر بیچے۔اور انگور کی بیلوں کا پھل کشمش کے عوض ماپ کر بیچے،اور کھیت (کی فصل) غلے کے عوض ماپ کر فروخت کرے۔رسول اللہ ﷺ نے ان سب صورتوں سے منع فرمایا۔