Sunan ibn Majah Hadith 2284 (سنن ابن ماجہ)
[2284] إسنادہ ضعیف
سنن أبي داود (3467)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ النَّجْرَانِيِّ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ أُسْلِمُ فِي نَخْلٍ قَبْلَ أَنْ يُطْلِعَ قَالَ لَا قُلْتُ لِمَ قَالَ إِنَّ رَجُلًا أَسْلَمَ فِي حَدِيقَةِ نَخْلٍ فِي عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَبْلَ أَنْ يُطْلِعَ النَّخْلُ فَلَمْ يُطْلِعْ النَّخْلُ شَيْئًا ذَلِكَ الْعَامَ فَقَالَ الْمُشْتَرِي ہُوَ لِي حَتَّی يُطْلِعَ وَقَالَ الْبَائِعُ إِنَّمَا بِعْتُكَ النَّخْلَ ہَذِہِ السَّنَةَ فَاخْتَصَمَا إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَ لِلْبَائِعِ أَخَذَ مِنْ نَخْلِكَ شَيْئًا قَالَ لَا قَالَ فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَہُ ارْدُدْ عَلَيْہِ مَا أَخَذْتَ مِنْہُ وَلَا تُسْلِمُوا فِي نَخْلٍ حَتَّی يَبْدُوَ صَلَاحُہُ
نجرانی سے روایت ہے،انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ سے کہا: کیا میں خوشے نکلنے سے پہلے کھجوروں کے درختوں کی بیع سلم کر لیا کروں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں! میں نے کہا: کیوں؟ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے کھجوروں کے درختوں پر خوشے ظاہر ہونے سے پہلے کھجوروں کے ایک باغ کی بیع سلم کی۔اس سال باغ میں پھل نہ لگا۔خریدار نے کہا: خوشے آنے تک یہ میرا باغ ہے۔بیچنے والے نے کہا: میں نے تجھے یہ باغ ایک سال کے لیے فروخت کیا تھا۔انہوں نے اپنا مقدمہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے بیچنے والے سے کہا: کیا اس نے تیرے درختوں سے کچھ (پھل یا روپیہ پیسہ) وصول کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔آپ نے فرمایا: تو پھر اس کا مال اپنے لیے کس طرح حلال سمجھتا ہے؟ اس سے جو کچھ لیا ہے،وہ اسے واپس کر دے اور 0آئندہ) کھجور کے درختوں کی بیع سلم نہ کیا کرو جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو جائے۔