Sunan ibn Majah Hadith 2315 (سنن ابن ماجہ)
[2315] إسنادہ ضعیف
سنن أبي داود (3573) ترمذي (1322ب)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا أَبُو ہَاشِمٍ قَالَ لَوْلَا حَدِيثُ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ اثْنَانِ فِي النَّارِ وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ رَجُلٌ عَلِمَ الْحَقَّ فَقَضَی بِہِ فَہُوَ فِي الْجَنَّةِ وَرَجُلٌ قَضَی لِلنَّاسِ عَلَی جَہْلٍ فَہُوَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ جَارَ فِي الْحُكْمِ فَہُوَ فِي النَّارِ لَقُلْنَا إِنَّ الْقَاضِيَ إِذَا اجْتَہَدَ فَہُوَ فِي الْجَنَّةِ
حضرت ابو ہاشم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ اگر حضرت عبداللہ بن بریدہ رحمۃ اللہ علیہ کی وہ حدیث نہ ہوتی جو انہوں نے اپنے والد (حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قاضی تین (طرح کے) ہیں۔دو جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں۔(ایک) وہ آدمی (ہے) جس نے ھق معلوم کر لیا،پھر اس کے مطابق فیصلہ دیا تو وہ جنت میں جائے گا۔(دوسرا) وہ آدمی (ہے) جس نے (حق سے) لا علم ہوتے ہوئے لوگوں میں فیصلہ کیا،وہ جہنم میں جائے گا۔(تیسرا) وہ آدمی (ہے) جس نے فیصلہ کرتے ہوئے ظلم سے کام لیا،وہ بھی جہنم میں جائے گا۔(اگر یہ حدیث نہ ہوتی) تو ہم کہتے کہ قاضی جب اجتہاد سے کام لے (اپنی پوری کوشش کرے) تو وہ جنتی ہے۔