Sunan ibn Majah Hadith 2425 (سنن ابن ماجہ)

[2425] إسنادہ ضعیف جدًا

حنش: حسین بن قیس الرحبي: متروک

وبہ ضعفہ البوصیري ولبعض الحدیث شاہد حسن عند البزار (کشف الأستار 104/2 ح 1307)

انوار الصحیفہ ص 466

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الصَّنْعَانِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ يَطْلُبُ نَبِيَّ اللہِ ﷺ بِدَيْنٍ أَوْ بِحَقٍّ فَتَكَلَّمَ بِبَعْضِ الْكَلَامِ فَہَمَّ صَحَابَةُ رَسُولِ اللہِ ﷺ بِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَہْ إِنَّ صَاحِبَ الدَّيْنِ لَہُ سُلْطَانٌ عَلَی صَاحِبِہِ حَتَّی يَقْضِيَہُ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: ایک آدمی نبی ﷺ سے قرض واپس مانگنے آیا،یا کسی اور مالی حق کا مطالبہ کرنے آیا۔اس نے کچھ (نامناسب) الفاظ کہے۔رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنھم نے اس کی تادیب کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رک جاؤ،قرض والے کو اپنے ساتھی (مقروض) پر اختیار ہوتا ہے،جب تک وہ ادائیگی نہ کر دے۔