Sunan ibn Majah Hadith 2431 (سنن ابن ماجہ)

[2431] إسنادہ ضعیف جدًا

خالد بن یزید: ضعیف

ولبعض حدیثہ شاہد ضعیف عند الطبراني (297/8 ح 7976)

انوار الصحیفہ ص 466

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ و حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَی بَابِ الْجَنَّةِ مَكْتُوبًا الصَّدَقَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا وَالْقَرْضُ بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا بَالُ الْقَرْضِ أَفْضَلُ مِنْ الصَّدَقَةِ قَالَ لِأَنَّ السَّائِلَ يَسْأَلُ وَعِنْدَہُ وَالْمُسْتَقْرِضُ لَا يَسْتَقْرِضُ إِلَّا مِنْ حَاجَةٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا ہوا دیکھا: صدقے کا ثواب دس گنا ہے اور قرض کا اٹھارہ گنا۔میں نے کہا: اے جبریل! کیا وجہ ہے کہ قرض صدقے ست بھی زیادہ فضیلت کا حامل ہے؟ انہوں نے کہا: اس لیے کہ سائل (بعض اوقات) سوال کرتا ہے،حالانکہ اس کے پاس (اس کی ضرورت کا مال) موجود ہوتا ہے جبکہ قرض لینے والا ضرورت (اور مجبوری) کی حالت ہی میں قرض لیتا ہے (کیونکہ قرض کی واپسی تو ضروری ہے،اس لیے مجبوری کے وقت ہی لیا جاتا ہے)۔