Sunan ibn Majah Hadith 2430 (سنن ابن ماجہ)

[2430] ضعیف

سلیمان بن یسیر: ضعیف (تقریب: 2620) قیس بن رومي: مجھول (تقریب: 5574)

وللحدیث شاھد ضعیف عند أحمد (1/ 412)

انوار الصحیفہ ص 466

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ حَدَّثَنَا يَعْلَی حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسِيرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ رُومِيٍّ قَالَ كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ أُذُنَانٍ يُقْرِضُ عَلْقَمَةَ أَلْفَ دِرْہَمٍ إِلَی عَطَائِہِ فَلَمَّا خَرَجَ عَطَاؤُہُ تَقَاضَاہَا مِنْہُ وَاشْتَدَّ عَلَيْہِ فَقَضَاہُ فَكَأَنَّ عَلْقَمَةَ غَضِبَ فَمَكَثَ أَشْہُرًا ثُمَّ أَتَاہُ فَقَالَ أَقْرِضْنِي أَلْفَ دِرْہَمٍ إِلَی عَطَائِي قَالَ نَعَمْ وَكَرَامَةً يَا أُمَّ عُتْبَةَ ہَلُمِّي تِلْكَ الْخَرِيطَةَ الْمَخْتُومَةَ الَّتِي عِنْدَكِ فَجَاءَتْ بِہَا فَقَالَ أَمَا وَاللہِ إِنَّہَا لَدَرَاہِمُكَ الَّتِي قَضَيْتَنِي مَا حَرَّكْتُ مِنْہَا دِرْہَمًا وَاحِدًا قَالَ فَلِلَّہِ أَبُوكَ مَا حَمَلَكَ عَلَی مَا فَعَلْتَ بِي قَالَ مَا سَمِعْتُ مِنْكَ قَالَ مَا سَمِعْتَ مِنِّي قَالَ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُقْرِضُ مُسْلِمًا قَرْضًا مَرَّتَيْنِ إِلَّا كَانَ كَصَدَقَتِہَا مَرَّةً قَالَ كَذَلِكَ أَنْبَأَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ

حضرت قیس بن رومی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا: حضرت سلیمان بن اذنان رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت علقمہ رحمۃ اللہ علیہ کو ان کا وظیفہ (تنخواہ) ملنے تک کی مدت کے لیے ایک ہزار درہم قرض دیا۔جب انہیں وظیفہ ملا تو انہوں (سلیمان) نے ان سے سختی سے (قرض کی واپسی کا) تقاضا کیا۔علقمہ رحمۃ اللہ علیہنے ادائیگی کر دی لیکن انہیں ناراضی محسوس ہوئی (کہ اتنی سختی سے تقاضا کیا ہے) چند ماہ ٹھہر کر وہ (پھر) ان کے پاس آئے اور کہا: مجھے تنخواہ ملنے تک ایک ہزار درہم قرض دے دیں۔انہوں نے کہا: ہاں،(میں بڑی خوشی سے آپ کا) احترام کرتے ہوئے (آپ کو قرض دیتا ہوں،پھر اپنی بیوی سے کہا): اے ام عتبہ! تمہارے پاس جو مہر بند تھیلی ہے،وہ لے آؤ۔وہ لے آئیں تو (علقمہ سے) کہا: قسم ہے اللہ کی! یہ آپ کے وہی درہم ہیں جو آپ نے مجھے ادا کیے تھے۔میں نے ان میں سے ایک درہم بھی ادھر ادھر نہیں کیا۔علقمہ رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: کیا خوب! آپ نے مجھ سے جو سلوک کیا،اس کی کیا وجہ؟ انہوں نے کہا: (اس کی وجہ وہ حدیث تھی) جو میں نے آپ سے سنی۔انہوں نے کہا: آپ نے مجھ سے کون سی حدیث سنی؟ سلیمان نے کہا: میں نے آپ(علقمہ) کو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ س روایت کرتے سنا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان دوسرے مسلمان کو دوبارہ قرض دیتا ہے،وہ ایک بات اتنا صدقہ کرنے کے برابر ہو جاتا ہے۔علقمہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: مجھے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (واقعی) اسی طرح حدیث سنائی تھی۔