Sunan ibn Majah Hadith 2433 (سنن ابن ماجہ)

[2433] إسنادہ ضعیف

عبد الملک أبو جعفر مجھول الحال

و للحدیث شاھد صحیح عند أحمد (5/ 7) والبخاري فی التاریخ الکبیر (4/ 45) والبیہقي (10/ 142) إلا أنہ لم یسم کم ترک

یعني الحدیث صحیح دون قولہ: و ترک ثلاثمائۃ

انوار الصحیفہ ص 466

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ أَبُو جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ أَنَّ أَخَاہُ مَاتَ وَتَرَكَ ثَلَاثَ مِائَةِ دِرْہَمٍ وَتَرَكَ عِيَالًا فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَہَا عَلَی عِيَالِہِ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ إِنَّ أَخَاكَ مُحْتَبَسٌ بِدَيْنِہِ فَاقْضِ عَنْہُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ قَدْ أَدَّيْتُ عَنْہُ إِلَّا دِينَارَيْنِ ادَّعَتْہُمَا امْرَأَةٌ وَلَيْسَ لَہَا بَيِّنَةٌ قَالَ فَأَعْطِہَا فَإِنَّہَا مُحِقَّةٌ

حضرت سعد بن اطول جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا بھائی فوت ہو گیا،اس نے تین سو درہم (ترکہ) چھوڑا اور بال بچے بھی چھوڑے۔میں نے چاہا کہ یہ مال اس کے بیوی بچوں پر خرچ کروں۔نبی ﷺ نے فرمایا: تمہارا بھائی اپنے قرض کی وجہ سے قید ہے،اس لیے اس کا قرض ادا کرو۔تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کا (سارا) قرض ادا کر دیا ہے،سوائے دو دینار کے۔ایک عورت ان کا دعویٰ کرتی ہے لیکن اس کے پاس کوئی ثبوت (گواہی وغیرہ) نہیں۔نبی ﷺ نے فرمایا: اسے دے دو،وہ سچی ہے۔