Sunan ibn Majah Hadith 2434 (سنن ابن ماجہ)

[2434]صحیح

صحیح بخاری

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاہِيمَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ وَہْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ أَنَّ أَبَاہُ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عَلَيْہِ ثَلَاثِينَ وَسْقًا لِرَجُلٍ مِنْ الْيَہُودِ فَاسْتَنْظَرَہُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ فَأَبَی أَنْ يُنْظِرَہُ فَكَلَّمَ جَابِرٌ رَسُولَ اللہِ ﷺ لِيَشْفَعَ لَہُ إِلَيْہِ فَجَاءَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَكَلَّمَ الْيَہُودِيَّ لِيَأْخُذَ ثَمَرَ نَخْلِہِ بِالَّذِي لَہُ عَلَيْہِ فَأَبَی عَلَيْہِ فَكَلَّمَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَأَبَی أَنْ يُنْظِرَہُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ النَّخْلَ فَمَشَی فِيہَا ثُمَّ قَالَ لِجَابِرٍ جُدَّ لَہُ فَأَوْفِہِ الَّذِي لَہُ فَجَدَّ لَہُ بَعْدَ مَا رَجَعَ رَسُولُ اللہِ ﷺ ثَلَاثِينَ وَسْقًا وَفَضَلَ لَہُ اثْنَا عَشَرَ وَسْقًا فَجَاءَ جَابِرٌ رَسُولَ اللہِ ﷺ لِيُخْبِرَہُ بِالَّذِي كَانَ فَوَجَدَ رَسُولَ اللہِ ﷺ غَائِبًا فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللہِ ﷺ جَاءَہُ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ قَدْ أَوْفَاہُ وَأَخْبَرَہُ بِالْفَضْلِ الَّذِي فَضَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَخْبِرْ بِذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَذَہَبَ جَابِرٌ إِلَی عُمَرَ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ لَقَدْ عَلِمْتُ حِينَ مَشَی فِيہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَيُبَارِكَنَّ اللہُ فِيہَا

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد (حضرت عبداللہ بن حرام انصاری رضی اللہ عنہ) فوت ہوئے تو ان کےذمے ایک یہودی کا تیس وسق غلہ قرض تھا۔حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے مہلت مانگی تو اس نے مہلت دینے سے انکار کر دیا،تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے گزارش کی کہ یہودی سے ان کی سفارش کر دیں،چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے تشریف لے جا کر یہودی سے بات چیت کی (اور یہ پیش کش کی) کہ ان پر جو قرض ہے اس کے بدلے وہ ان کی کھجوروں کا سارا پھل لے لے تو اس (یہودی) نے یہ بات ماننے سے انکار کردیا۔رسول اللہ ﷺ نے اسے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو مہلت دینے کا کہا تو اس نے اس سے بھی انکار کر دیا۔رسول اللہ ﷺ کھجوروں کے باغ میں تشریف لے گئے اور درختوں کے درمیان چلے،پھر حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: پھل اتارو اور اسے اس کا حق پورا دے دو۔رسول اللہ ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد انہوں نے پھل اتار کر تین وسق کھجوریں اس (یہودی) کو دے دیں اور بارہ وسق کھجوریں بچ گئیں۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ اس واقعہ کی خبر دینے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاجر ہوئے تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ موجود نہیں۔جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو جابر رضی اللہ عنہ نے حاضر خدمت ہو کر اطلاع دی کہ انہوں نے اس (یہودی) کو پوری ادائیگی کر دی ہے،اور جو مقدار بچ گئی تھی وہ بھی بتائی،چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمر بن خطاب کو بھی یہ بات بتاؤ۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر انہیں یہ بات بتائی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ اس (باغ) میں چل رہے تھے تو مجھے اس وقت یقین ہو گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس پھل میں ضرور برکت عطا فرمائے گا۔