Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 3154 (سنن ابن ماجہ)

[3154]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی،عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ،عَنْ أَبِي قِلَابَةَ،عَنْ أَبِي زَيْدٍ،قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَقَالَ غَيْرُ عَبْدِ الْأَعْلَی: عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ،عَنْ أَبِي زَيْدٍ،ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی أَبُو مُوسَی قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي،عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ،عَنْ أَبِي قِلَابَةَ،عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ،عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ،قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ بِدَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ،فَوَجَدَ رِيحَ قُتَارٍ،فَقَالَ: ((مَنْ ہَذَا الَّذِي ذَبَحَ؟)) فَخَرَجَ إِلَيْہِ رَجُلٌ مِنَّا،فَقَالَ: أَنَا،يَا رَسُولَ اللہِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ،لِأُطْعِمَ أَہْلِي وَجِيرَانِي،((فَأَمَرَہُ أَنْ يُعِيدَ)) فَقَالَ: لَا،وَاللہِ الَّذِي لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ،مَا عِنْدِي،إِلَّا جَذَعٌ،أَوْ حَمَلٌ مِنَ الضَّأْنِ،قَالَ: ((فَاذْبَحْہَا،وَلَنْ تُجْزِئَ جَذَعَةٌ،عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ))

حضرت ابو زید (عمرو بن اخطب)انصاری سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ انصار کے ایک گھر کے پاس سے گزرے تو آپ کو گوشت پکنے (یابھننے) کی خوشبو محسوس ہوئی۔آپ نے فرمایا: یہ کون ہے جس نے (پہلے ہی)ذبح کرلیا ہے؟‘‘ ہمارا ایک (انصاری) آدمی آپ کی طرف باہر نکلا اور غرض کیا: اے اللہ! کے رسول! میں ہوں،مین نماز (عید)سے پہلے (قربانی کا جانور)ذبح کرلیا تھا تاکہ اپنے گھر والوں اور ہمسائیوں کو کھلاؤں۔رسول اللہ ﷺ نے اسے دوبارہ ذبح کرنے کا حکم دیا تو اس نےکہا: قسم ہے اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں!میرے پاس تو صرف بھیڑ کا ایک میمنا ہے۔آپ نےفرمایا:’’اسی کو ذبح کردے،تیرے بعد کسی کی طرف سے جذعہ (قربان کرنا)کافی نہیں ہوگا۔‘‘