Sunan ibn Majah Hadith 3195 (سنن ابن ماجہ)
[3195]متفق علیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ،عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ،قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ خَيْبَرَ،فَأَمْسَی النَّاسُ،قَدْ أَوْقَدُوا النِّيرَانَ،فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((عَلَامَ تُوقِدُونَ؟)) قَالُوا: عَلَی لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ فَقَالَ: ((أَہْرِيقُوا مَا فِيہَا وَاكْسِرُوہَا)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَوْ نُہَرِيقُ مَا فِيہَا وَنَغْسِلُہَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((أَوْ ذَاكَ))
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں خیبر کی جنگ لڑی۔شام کو لوگوں نے (جگہ جگہ) آگ روشن کی۔نبی ﷺ نے فرمایا: تم کس چیز (کو پکانے) کے لیے آگ جلا رہے ہو۔؟ صحابہ نے عرض کیا: پالتو گدھوں کے گوشت کے لیے۔آپ نے فرمایا: ’’ان (برتنوں) میں جو کچھ ہے گرا دو،اور ان (برتنوں) کو توڑ دو‘‘ایک آدمی نے کہا: یا (اگر آپ اجازت دیں تو) ہم ان کے اندر جو کچھ ہے گرا دیں اور ان برتنوں کو دھو لیں؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’یا ایسے کرلو۔‘‘