Sunan ibn Majah Hadith 3239 (سنن ابن ماجہ)
[3239] إسنادہ ضعیف
سعید بن أبي عروبۃ و قتادۃ عنعنا
و روی الإمام مسلم (1950) بالسند صحیح عن أبی الزبیر قال: ’’سألت جابرًا عن الضب فقال: لا تطعموہ،و قذرہ،و قال قال عمر بن الخطاب: إن النبي ﷺ لم یحرّمہ،إن اللہ عز وجل ینفع بہ غیر واحد،فإنما طعام عامۃ الرعاء منہ و لو کان عندي طعمتہ‘‘ و ھذا یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْہَرَوِيُّ إِبْرَاہِيمُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ،أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((لَمْ يُحَرِّمِ الضَّبَّ،وَلَكِنْ قَذِرَہُ،وَإِنَّہُ لَطَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَاءِ،وَإِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَنْفَعُ بِہِ غَيْرَ وَاحِدٍ،وَلَوْ كَانَ عِنْدِي لَأَكَلْتُہُ)) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ سُلَيْمَانَ،عَنْ جَابِرٍ،عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،نَحْوَہُ
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: نبیﷺ نے سانڈے کو حرام قرار نہیں دیا لیکن اسے ناپسند فرمایا۔اور یہ اکثر چرواہوں کی خوراک ہے۔اللہ عزو جل اس کے ذریعے سے کئی لوگوں کو فائدہ دیتا ہے۔اگر میرے پاس (سانڈہ) ہوتا تو میں اسے کھا لیتا۔ (م) امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دوسری سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی یہ روایت بھی نبیﷺ سے بیان کی ہے۔