Sunan ibn Majah Hadith 3282 (سنن ابن ماجہ)
[3282]صحیح
صحیح بخاری
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمِصْرِيُّ أَبُو الْحَارِثِ الْمُرَادِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ وَہْبٍ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَی،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ،قَالَ: كُنَّا زَمَانَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((وَقَلِيلٌ مَا نَجِدُ الطَّعَامَ،فَإِذَا نَحْنُ وَجَدْنَاہُ،لَمْ يَكُنْ لَنَا مَنَادِيلُ،إِلَّا أَكُفُّنَا،وَسَوَاعِدُنَا وَأَقْدَامُنَا،ثُمَّ نُصَلِّي،وَلَا نَتَوَضَّأُ)) قَالَ أَبُو عَبْدِ اللہِ: غَرِيبٌ؛ لَيْسَ،إِلَّا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ
حضرت جابر بن عبدا للہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ کے زمانے میں ہمیں کھانا کم ملتا تھا۔زیادہ گزارہ کھجوروں وغیرہ پر تھا۔) پھر جب ہمیں کھانا میسر آتا تو ہمارے پاس رومال نہیں ہوتے تھے،سوائے ہاتھوں،کلائیوں اور پاؤں کے۔(ہاتھ کو لگی ہوئی چکنائی وغیرہ اس طرح ادھر ادھر مل لیتے تھے۔) پھر (نیا) وضو کیے بغیر ہی نماز پڑھ لیتے تھے۔ امام ابن ماجہ نے کہا یہ روایت غریب ہے۔اسے صرف محمد بن سلمہ نے بیان کیا ہے۔