Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 3312 (سنن ابن ماجہ)

[3312] إسنادہ ضعیف

إسماعیل بن أبي خالد عنعن في ھذا السند

و صرح بالسماع فی الروایۃ المرسلۃ عند الخطیب (278/6) والمرسل أصح کما قال الدار قطني وغیرہ

انوار الصحیفہ ص 495

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَسَدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ،عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ،عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ،قَالَ: أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ،فَكَلَّمَہُ،فَجَعَلَ تُرْعَدُ فَرَائِصُہُ،فَقَالَ لَہُ: ((ہَوِّنْ عَلَيْكَ،فَإِنِّي لَسْتُ بِمَلِكٍ،إِنَّمَا أَنَا ابْنُ امْرَأَةٍ تَأْكُلُ الْقَدِيدَ)) قَالَ أَبُو عَبْدِ اللہِ: إِسْمَاعِيلُ وَحْدَہُ،وَصَلَہُ

حضرت ابو مسعود (عقبہ بن عمرو انصاری)رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘انھوں نے فرمایا: ایک ےآدمی نبیﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور آ پ سے بات کرنے لگا۔(رسول اللہﷺ کے رعب کی وجہ سے)اس کے کندھے کانپنے لگے(اس پر کپکپی طاری ہو گئی)رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’گھبراؤ مت‘میں بادشاہ نہیں ہوں۔میں تو ایک ایسی(عام سی غریب)عورت کا بیٹا ہوں جو خشک کیا ہوا گوشت کھایا کرتی تھی۔‘‘ امام ابو عبد اللہ ابن ماجہ رحمہ اللہ نے کہا:روایت کے راوی اسماعیل(بن ابو خالد) ہی نے اسے موصول بیان کیا ہے۔