Sunan ibn Majah Hadith 3330 (سنن ابن ماجہ)
[3330] إسنادہ ضعیف
قال البوصیري: ’’ھذا إسناد فیہ أبو زکیر یحیی بن محمد بن قیس وھو ضعیف‘‘ وھو: ضعیف یعتبر بہ (التحریر: 7639)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَدَنِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ عَائِشَةَ،قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((كُلُوا الْبَلَحَ بِالتَّمْرِ،كُلُوا الْخَلَقَ بِالْجَدِيدِ،فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَغْضَبُ،وَيَقُولُ بَقِيَ ابْنُ آدَمَ،حَتَّی أَكَلَ الْخَلَقَ بِالْجَدِيدِ))
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے‘رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:’’تازہ پکی ہوئی کھجور خشک کھجور کے ساتھ ملا کر کھایا کرو۔پرانے (پھل) کو نئے کے ساتھ ملا کر کھاؤ۔(اس سے) شیطان کو غصہ آتا ہے اور وہ کہتا ہے:آدم کا بیٹا جیتا رہا حتی کہ اس نے نئی چیز کے ساتھ پرانی چیز بھی کھائی۔‘‘